بہن بھائی کی سچی کہانی

Date:

بہن بھائی کا رشتہ بھی عجیب ہے کبھی محبت کا ہے تو کبھی لڑائی کا کبھی دوست کا ہے تو کبھی دشمنی کا آج کی کہانی ایک بہن بھائی کی کہانی ہے میرا بھائی مجھ سے چار سال بڑا ہے بچپن میں وہ مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا اوریہ بات میں اس کے منہ پر کہہ دیتی تھی کی بھائی تم مجھے بالکل بھی پسند نہیں اور یہ بات سن کر وہ زور سے ہنستا اور چلا جاتا اس ناپسندیدگی کی بہت سی وجوہات تھیں میرا بھائی مجھے کہیں بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتا بلکہ ہر وقت تنگ کرتا رہتا ایک دن تنگ آکر میں نے بھائی کی شکایت ابو سے کر دی اور ابو نے بھائی کو بہت مارا اور میں پیچھے بیٹھی روتی رہی۔

اور جب ابو بھائی کو چھوڑ کر چلے گئے تو میں بھائی کے پاس گئی اور کہا بھائی سوری آئندہ میں آپ کی شکایت نہیں لگاؤں گی۔ بھائی ہنستے ہوئے بولا بیشک تم ابو کو نہ بتاؤ لیکن میں تمھیں تنگ کرنا نہیں چھوڑونگا میں بھائی کی وجہ سے بہت تنگ تھی دن یوں ہی گزرتے گئے ایک دن میں نے امی کو کہا کہ یہ بھائی مجھے بالکل بھی پسند نہیں لیکن امی نے کہا کہ تمھیں وہ ہی بھائی پسند نہیں جو تمھیں اتنا پیار کرتا ہے میں حیرت سے بولی کہ امی میں تو بھائی کو بالکل بھی پسند نہیں اس لئے تو مجھے اتنا تنگ کرتا ہے امی مسکراہی اور بولی کہ نہیں ایسا نہیں ہے بھائیوں کے محبت کرنے کا انداز ایسا ہی ہوتا ہے وہ بہنوں کو تنگ کرکے اپنا پیار جتاتے ہیں اس انکشاف کے بعد میں نے بھائی سے چڑنا چھوڑ دیا اور میری بھائی سے دوستی ہوگئی۔

اور بھائی کالج میں چلا گیا اور میں ساتویں کلاس میں ہوگئی ہمارے گھر میں فلمیں دیکھنے پر پابندی تھی بھائی اپنے دوست کے گھر فلمیں دیکھتے اورمجھے کہتا کہ کسی کو نہ بتانا اور میں کسی کو نہ بتاتی اور جب بھائی ٹیوشن پڑھانے لگے تو بھائی کے پاس پیسے بھی ہوتے اور میں کبھی بھائی سے آئس کریم کیلئے کہتی تو کبھی چاٹ کیلئے اور بھائی میری چھوٹی چھوٹی فرمائشیں خوشی خوشی پوری کرتے اور جب میری شادی ہوئی تو میرے بھائی نے مجھے بہت تنگ کیا اور کہتا کہ میرا دل کر رہا ہے کہ میں جا کر تمھارے شوہر کو کہوں کہ بھائی کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑا مار رہے ہو میری شادی کے دو سال بعد بھائی کی شادی ہوگئی میں نے شادی والے دن بھائی کو بہت تنگ کیا لیکن بھائی سب کچھ برداشت کر گئے اور صرف مسکراتے رہے بھائی شادی کے بعد مڈل ایسٹ چلا گیا اور میں یورپ بھائی پاکستان الگ مہینے میں آتا اور میں الگ اس طرح تین سال میری بھائی سے ملاقات نہ ہوئی اور فون پر بھی دعا سلام سے زیادہ نہیں ہوتی بھابھی سے تو بہت بات ہوتی۔

لیکن بھائی سے بات ہی نہ ہوتی میں سوچتی کہ شادی کے بعد بھائیوں کو بہنیں یاد نہیں آتی شاید اس لیے خاموش ہوجاتی تین سال بعد ایک دن بھائی کا فون آیا کی تم اس سال پاکستان کب آؤگی میں تم سے اس بار ملنے آؤگا بہت عرصہ ہوا تمھیں دیکھے ہوئے اس دن مین بہت روئی میں سوچتی تھی کہ شادی کے بعد بھائیوں کو بہینوں کی یاد ھی نہیں آتی میں پاکستان گئی تو بھائی مجھ سے ملنے آیا بھائی بہت بدلہ بدلہ سا لگا نہ اس کی آنکھوں میں شرارتی چمک تھی اور نہ ہی وہ ہنسی تھی اور وہ تھوڑا اداس لگا اور میں اس سے اسکی اداسی کی وجہ بھی نہیں پوچھ سکا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم بھی مڈل ایسٹ شفٹ ہوگئے تو میرے شوہر نے کہا کہ تم اکیلے رہنے کی بجائے اپنے بھائی کے گھر چلی جاؤ آج میں دس سال بعد بھائی کے ساتھ رہنے اور وقت گزارنے جارہی تھی۔

میں بھائی کے گھر گئی اور کھانا کھانے کے بعد بچوں کو سلانے کے بعد لاؤنچ آگئی جہاں پر بھائی اور بھابھی بیٹھے ہوئے تھے اور میں نے بھائی سے پوچھا کہ آپ نے کوئی فلم دیکھی تو بھائی کہ چہرے پر ایک مسکراہٹ آگئی اور بھائی مجھے فلم کی کہانی سنانے لگ گیا اور اس کی آنکھوں میں ویسی ہی چمک آگئی اور پہلے جیسی باتیں کرنے لگ گیا اور میں نے کہا کہ بھائی آپ تو بالکل ہی نہیں بدلے اور بھائی نے کہا کہ تم نے کیسے سوچ لیا لہ میں بدل جاؤں گا اور میں نے کہا کہ آپ نے مجھے تنگ کرنا چھوڑ دیا میری باتیں سن کر بھائی کہنے لگا کہ تم نے بھی تو مجھ سے لڑنا چھوڑ دیا اور مجھ سے ناراض ہونا چھوڑ دیا اور مجھ سے فرمائشیں کرنا چھوڑ دیا کیا تم نہیں بدل گئی یہ سن کر میں خاموش ہوگئی تو میرا بھائی مسکرا دیا اور کہا کہ بھائی نہیں بدلتے وقت بدل جاتا یے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

”جو لڑکی شوہر کے ہوتے ہوئے بھی غیر مردوں سے ناجائز تعلق رکھتی ہے“

کسی بھی عورت کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ...

جو عورت مرد کی ایک چیز چ و م لے

میاں بیوی میں سیکس کی شروعات ہمیشہ ہنسی مذاق...

ایک خط جو آپ کے لیے ہے

رابعہ میری بہت اچھی دوست ہے وہ ایک اولڈ...