2 لڑکیوں سے 20 ملزمان کی اجتماعی زی ادتی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا نوٹس

Date:

کراچی( آن لائن)چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے نو کوٹ میں 2 بچیوں کو اغ وا کرکے زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقع کی شائع ہونے والی

خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے میر پور خاص کے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کو طلب کرلیا۔سندھ کے شہر نو کوٹ میں 2 بچیوں کو اغ وا کرکے زی ا دتی کا نشانہ بنانے

کے واقع کی شائع ہونے والی خبروں کا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس احمد علی شیخ نے میرپور خاص کے ڈی

آئی جی اور ایس ایس پی کوطلب کرلیا، چیف جسٹس نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی میرپور خاص کو 15 فروری دوپہر 12 بجے رپورٹ کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس حوالے سے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔واضح رہے اتوار کو نوکوٹ تھانہ کی حدود میں میں اسلحہ بردار ملزمان ایک گھر میں گھس کر 13 سالہ بچی سمیت 2 لڑکیوں کو اغوا کرلیا، درندوں نے انہیں رات بھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اگلے روز لڑکیوں کو ایک پولیس اہلکار کے گھر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ دوسری جانب امیر جماعت اسلامی سندھ وسابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی نے نوکوٹ کے گاؤں محمدحنیف راجپوت سے دوخواتین کو اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کرنے کے واقعے کو شرمناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے اسے امن، محبت اور خواتین کی عزت کرنے والے سندھ کے معاشرے پر سیاہ دھبہ اورمطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث درندہ صفت مجرموں کو قانون کی پکڑمیں لاکر عبرت ناک سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نوکوٹ واقعے نے سندھ

کے عوام کا سر شرم سے جھکادیا ہے، خواتین کی تذلیل، حراساں کرنا اور زیادتی عام ہوچکا ہے مرد اپنی مردانگی کا غصہ خواتین پر اتارنے میں فخر محسوس کرنے لگا ہے جو ایک المناک اور خطرناک پہلو ہے اس وقت پورے ملک خصوصاً سندھ میں خواتین کیخلاف جرائم میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، یونیورسٹیز سے لیکر کالجوں اور دیہاتی خواتین پر آئے روز مجرمانہ حملے، حراسانی اور زیادتی کے واقعات،جعلی نکاح ناموں کی وجہ سے خواتین کی خودکشیاں ہورہی ہیں لیکن چودہ سالوں سے سندھ پر حکمرانی کرنے والے حکمران سندھ کے عوام کو بنیادی انسانی سہولیات تعلیم، صحت، صاف پانی، امن امان فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد اب کسی کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے،نوکوٹ واقعہ سندھ پولیس اور حکمرانوں کی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ موجودہ حکومت کے ممبران اسمبلی خود جرائم میں ملوث ہیں جس

کی مثال ناظم جوکھیو قتل، ام رباب کے خاندان اور فہمیدہ سیال ہیں، پیپلزپارٹی کی قائد ایک خاتون شہیدبینظیر بھٹو تھیں لیکن آج اس پارٹی کے طویل اقتدار میں سندھ میں سب سے زیادہ ظلم خواتین پر ہورہا ہے جو سندھ حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ سندھ پولیس حکمرانوں کی خوشامد کرنے کی بجائے عوام کی جان ومال کا تحفظ کرے، سندھ یونیورسٹی سمیت سندھ کے دیگر تعلیمی اداروں میں آئے روز معصوم طلباء سے دست درازی،حراسانی اور اغوا کی کوششیں ہوں یا گاؤں دیہات میں خواتین کو کاروکاری کے نام پر قتل کیا جائے پولیس متاثرہ خاندانوں کو انصاف دینے کی بجائے بااثر مجرموں کو بچانے کی تگ ودو میں مصروف ہوتی ہے لیکن اب جماعت اسلامی ایسا ہونے نہیں دے گی، سندھ میں خواتین سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں، اس واقعے نے سندھ کی روایات کو بھی پامال کردیا ہے، ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں،اس واقعے کو ٹیسٹ کیس بناکر مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی گروہ یا شخص کو کسی عفت ماب خاتون کی طرف آنکھ اٹھاکر دیکھنے کی بھی جرئت نہ ہوسکے، ایسے مجرم رحم کے مستحق نہیں ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

”جو لڑکی شوہر کے ہوتے ہوئے بھی غیر مردوں سے ناجائز تعلق رکھتی ہے“

کسی بھی عورت کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ...

جو عورت مرد کی ایک چیز چ و م لے

میاں بیوی میں سیکس کی شروعات ہمیشہ ہنسی مذاق...

ایک خط جو آپ کے لیے ہے

رابعہ میری بہت اچھی دوست ہے وہ ایک اولڈ...