’’یا اللہ تو جانے تیرا کام جانے ‘‘

Date:

شیخ سعدیؒ سفر کر رہے تھے ، ان کیساتھ ان کا گدھا بھی تھا۔ ایک گائوں میں پہنچے تو رات پڑ گئی ۔ سردی کے دن تھے ، رات بسر کرنے کا ٹھکانہ تلاش کرنے لگے ۔ گائوں والوں میں سے کوئی ٹھکانہ دینے پر رضا مند نہ ہوا۔ آخر ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا ، گھر والے نے کہا : ’’ میری بیوی دروازہ

میں تڑپ رہی ہے ، بچہ نہیں ہوتا ۔ اگر تو دعاکرے تو جگہ دوں گا ‘‘۔ شیخ سعدیؒ مان گئے ۔ انہیں کمرہ مل گیا، پھر انہوں نے کاغذ کے پرزے پر ایک تعویز لکھا اور گھر والے سے کہا ’’ اسے مریضہ کی ناف پر باندھ دے ۔ تعویز باندھتے ہی بچہ ہو گیا۔ اگلی صبح شیخ سعدیؒ چلے گئے لیکن گائوں والوں نے تعویذ سنبھال کر رکھ لیا ۔گائوں میں جب کسی کو زچگی کی تکلیف ہوتی تو وہی تعویذ لے جا کر باندھ دیتے ۔ تکلیف رفع ہو جاتی ۔ گائوں کے مولوی کو اس بات پر بڑا غصہ آیا ۔ اس نے سوچا کہ اگر تعویذ پر لکھ ہوئی آیت کا پتہ چل جائے تو اسے بڑا فائدہ ہو گا۔ مولوی نے جھوٹ موٹ کا بہانہ تراشا اور تعویذ مانگ کر لے گیا ۔ اسے کھولا تو لکھا تھا : ’’یا اللہ ! میں اور میرا گدھ اب آرام سے ہیں ۔ ٹھکانہ مل گیا ۔ باقی تو جانے اور تیرا کام جانے‘‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Share post:

spot_imgspot_img

Popular

More like this
Related

Online Dating Safety and How to Recognize Red Flags

One of the key questions surrounding online dating is...

”جو لڑکی شوہر کے ہوتے ہوئے بھی غیر مردوں سے ناجائز تعلق رکھتی ہے“

کسی بھی عورت کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ...

جو عورت مرد کی ایک چیز چ و م لے

میاں بیوی میں سیکس کی شروعات ہمیشہ ہنسی مذاق...